یہ اقتباس پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کی خود نوشت سے ہے جو مندرجہ بالا عنوان سے حال ہی میں کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ اس خود نوشت کے دیباچے میں سید خاور مہدی نے لکھا ہے کہ وفات سے ایک سال پہلے اسکندر مرزا نے جنرل یحییٰ خان سے درخواست کی تھی کہ انہیں پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے مگر یحییٰ خان نے انکار کر دیا۔ بعد میں اسکندر مرزا کی بیٹی تاج امام نے بھی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئی۔ اسکندر مرزا کی تدفین تہران میں ہوئی جہاں شاہ ایران کی حکومت نے پورے ملٹری پروٹوکول کے ساتھ سرکاری سطح پر تدفین کی۔ یہ خود نوشت جو اس سال (2023ء) میں شائع ہوئی ہے ، نصف صدی سے زیادہ اخفا میں رہی۔ یوں یہ جتنی پرانی ہے اتنی ہی نئی ہے ۔ تاریخ پاکستان کے طالب علموں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ اسکندر مرزا کے خلاف زیادہ تر یکطرفہ پروپیگنڈا ہی پیش منظر پر رہا۔ اسکندر مرزا کو نکالنے والے جنرل ایوب خان ایک عشرے تک سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ اس دور میں اسکندر مرزا کی بات کون سنتا ؟ اب جب اسکندر مرزا کا موقف تفصیل سے سامنے آیا ہے تو غیر جانبدار مؤرخین کا فرض ہے کہ تاریخ کا یہ افسوسناک باب از سر نو لکھیں ۔